ابرار اور ایمان
ناول : ابرار اور ایمان
حصہ : اول
عطاء صافی
مجھے ایک صاحب بتا رہے تھے وہ ڈاکٹر ہیں کہنے لگے جوانی کے دن تھے
میں بھی عشق پہ ایمان لانے والا تھا
آج سے قبل بارہ سال پہلے ایک لڑکی میرے پاس آئ وہ کافی بیمار تھی
اسکا چیک اَپ کیا۔ وہ بہت خوبصورت تھی۔ اسکی نیلی سی آنکیں ناجانے مجھے کیا ہوا ۔ میں پہلی نظر میں ہی اس پہ دِل ہار گیالیکن خاموش رہا۔ اس کا علاج جاری رہا وہ بالکل ٹھیک ہو گئ۔ جب وہ آخری بار میرے پاس آئ ۔ میں نے ہمت کر کے اس سے کہا: کیاآپ اپنا نمبر مجھے دے سکتی ہیں؟
یہ تھا تو میرے شعبے کے خلاف لیکن جوان تھا نادان بھی تھا
اس نے میری طرف دیکھا پھر مجھے اپنا نمبر دے دیا۔ وہ اتنی خوبصورت تھی میں بتا ہی نہیں سکتا۔ اسکی نیلی سی آنکھیں،کندمی رنگ، مسکراۓ تو ڈمپل بنتے ہوں، خوبصورت ملائم بال۔ میں نے اسے کال کی تو وہ مجھے پہچان گئ۔
جی ڈاکٹر صاحب مجھے یقین تھا آپکا فون ضرور آۓ گا۔
میں نے پوچھا آپ کیا کر رہی تھی؟
آہستہ سے بولی بس حالات سے لَڑ رہی ہوں۔
میں نے بات مذاق میں ٹال دی۔ کیا حالات سے لڑنا بھلا آپ یہ بتائیں رہتی کہاں ہیں؟ اس نے بات بدل لی
ڈاکٹر صاحب چھوڑیں نا میں کہا رہتی ہوں آپ بتائیں آپ کیوں کرتے ہیں مجھے کال؟ کیوں لیا میرا نمبر؟
میں مسکرا دیا آپ جانتی ہیں اللہ پاک نے آپکو کتنا خوبصورت بنایا ہے۔ آپ بہت پیاری ہیں۔ وہ خاموش ہو گئ ۔
ڈاکٹر صاحب پیارا ہونے سے کیا ہوتا ہے؟ کاش نصیب بھی پیارے ہوتے۔
میں نے سوال کیا : کیوں آپکے نصیب کو کیا ہے؟ وہ چپ ہو گئ۔
ڈاکٹر صاحب آپ ٹائم پاس کرنا چاہتے ہیں مجھ سے۔
وہ یہ بات کر رہی تھی میرے پاس مریض آگۓ میں نے فون بند کر دیا۔
ہماری بات ہوتی رہی وہ مجھے کہتی: ڈاکٹر صاحب آپکا عشق میں جانتی ہوں کہاں تک ہے۔ آپ بتا دیں کب کس وقت آپکو ملنے آوں۔
اسکی یہ بات سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گۓ۔میں نے کہا تم کو یہ بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہئے تھا۔
میں ایسا انسان نہیں ہوں۔ میں نے اس سے پوچھا: آپکی فیملی میں کون ہیں؟
آہستہ سے بولی صرف امی ہیں ابو نہیں ہیں بھائ بھی نہیں ہے۔
میں نے گھر کے اخراجات کا پوچھا۔ کیسے گھر کا نظام چلتا ہے۔
وہ خاموش ہو گئ۔ عشاء کی نماز کا وقت ہوگیا تھا کہنے لگی میں نماز پڑھ لوں۔
میں نے ہاں میں جواب دیا۔ وہ صرپ دن میں بات کرتی۔ رات کو وہ مجھ سے بات نہیں کرتی۔ میں نے بہت بار کہا رات کو بات کرو لیکنکہہ دیتی کہ رات کو جلدی سو جاتی ہوں۔ میں نہیں کر سکتی رات کو بات۔
خیر ہماری بات کا سلسلہ چلتا رہا۔ ایک سال گزر گیا۔ میں نے اس سے شادی کرنے کا ارادہ کر رکھا تھا۔ اسکی بہت عزت کرتا تھامیں کیونکہ وہ پانچ وقت کی نماز پڑھتی تھی۔ اور اسکو دیکھ کو میں بھی پانچ وقت نماز پڑھنے لگا تھا۔ میں اس پہ حق جتایا کرتا۔اسکے ساتھ مجھے اپنے پن کا احساس ہونے لگا تھا۔وہ مجھے کھانے کے وقت مسج کرتی اور پیار سے کھتی آپ نے کھانا کھا لیا۔ میںاگر کھانے سے لیٹ ہوتا وہ مجھے ڈانٹے لگتی لیکن ہمیشہ وہ ایک بات کہتی : ڈاکٹر ابرار آپ بہت اچھے انسان ہیں۔ میں نماز پڑھ کردعا کرتی ہوں اللہ پاک آپکو بہت اچھی ہمسفر عطا کرے۔
میں تڑپ کر اسے کہتا : ایمان میری ہمسفر آپ ہی ہیں۔ میں آپ سے ہی شادی کرونگا۔
لیکن وہ زور سے ہنسنے لگی : نہیں ڈاکٹر صاحب میں آپکے قابل نہیں ہوں۔ وہ بات ادھوری چھوڑ دیتی۔
مجھے یاد ہے میں اسے جنتنا بھی ڈانٹتا جتنا بھی کچھ کہتا وہ غصہ نہ کرتی۔ میرا ڈانٹ میرا غصہ سب کچھ برداشت کر لیتی۔
ایک بار اسنے میرا فون نہ اٹھایا۔ میں نے اسے بہت ڈانٹا۔ وہ میری ڈانٹ سنتی رہی پھر آہستہ سے بولی: ڈاکٹر صاحب میں قربان آپپہ۔ جتنا چاہے غصہ کر لیں آپکے قدموں سے لپٹ جاؤنگی۔
میں اسکی اس محبت پہ مر مٹ جاتا تھا۔ میری شادی کی بات ہونے لگی تو میں نے امی ابو کو بتایا مجھے ایک لڑکی پسند ہے مجھےبہت اچھی لگتی ہے۔ میں اسی سے شادی کرونگا۔ امی ابو نے بھی ہاں میں ہاں ملا دی : ٹھیک ہے پتر جیسے تم کہو زندگی تم نےگزارنی ہے۔
میں نے اپنی بہن بھابھی امی سب کو ایمان کی تصویر دکھائ۔ سب کو بہت اچھی لگی۔ میں بھت خوش تھا سب کہہ رہے تھے جلدیسے ایمان کے گھر جائینگے رشتہ لے کر۔
میں نے ایمان کو کال کی ایمان اپنے گھر کا ایڈریس دیں امی ابو آپکے گھر رشتے کے لۓ آ رہے ہیں۔ اسنے فون بند کر دیا۔ میں بار بارفون کرتا رہا لیکن اسنے نمبر بند کر دیا تھا۔ پانچ دن گزر گئے تھے اسکا نمبر بند تھا۔

0 Comments